اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی گورنریٹِ قدس نے جمعرات کو یہودی تہواروں کے دوران مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ قدس کو درپیش خطرات سے خبردار کیا اور فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ کا رخ کرنے اور وہاں نماز ادا کرنے کی اپیل کی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہودی تہوار اتوار سے شروع ہو کر تقریباً تین ہفتے تک جاری رہیں گے۔
گورنریٹِ قدس نے مسجد اقصیٰ کی شناخت اور اس کی مذہبی، تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے ’’مرحلہ وار اور منظم منصوبے‘‘ سے خبردار کیا، جس کے نتیجے میں مسجد کے موجودہ تاریخی اور قانونی تشخص کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
گورنریٹ کے مطابق، اصل خطرہ صرف یہودی آبادکاروں کی مسجد میں داخلے کی تعداد میں نہیں بلکہ ان داخلوں کے ذریعے جس صورتحال کو مستقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس میں ہے۔ ناقابل قبول اقدامات کو بار بار دہرانا اور قابض پولیس کی جانب سے انہیں سرکاری سرپرستی اور سیاسی تحفظ فراہم کرنا اس عمل کو بتدریج ایک مستقل معمول میں تبدیل کر سکتا ہے، جسے بعد میں ’’موجودہ صورتحال‘‘ کا حصہ قرار دیا جائے۔ اس کا مقصد مسجد اقصیٰ کی حیثیت ایک مکمل اسلامی مسجد سے تبدیل کرکے اسے ایسا مقام بنانا ہے جسے مشترکہ مذہبی مقام کے طور پر پیش کیا جائے۔
گورنریٹ نے واضح کیا کہ تاریخی حیثیت سے مراد مقبوضہ قدس کے مقدس مقامات کی انتظامی صورتحال سے متعلق وہ تاریخی معاہدہ ہے جو انیسویں صدی میں عثمانی دور میں طے پایا اور بعد میں عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات سمیت ’’موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی‘‘ نہیں کی جا سکتی۔
گورنریٹِ قدس نے خبردار کیا کہ موجودہ یہودی تہواروں کے دوران مسجد اقصیٰ کی صورتحال تبدیل کرنے کے لیے اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس نے اسلامی اوقاف، مسجد کے محافظوں اور ملازمین پر دباؤ، نمازیوں کی مسجد میں آمد پر پابندیوں اور مسلسل بے دخلی کے احکامات کے ذریعے انہیں مسجد سے دور رکھنے کی جانب توجہ دلائی، جبکہ دوسری طرف مسجد میں داخل ہونے والے یہودی آبادکاروں کے لیے مزید جگہ پیدا کی جا رہی ہے اور مسجد کے اندر یہودی مذہبی رسومات کی اجازت دینے کے سیاسی مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گورنریٹ نے کہا کہ یہودی تہواروں کے موجودہ ایام مسجد اقصیٰ میں ان اقدامات کو مزید منظم اور کھلے انداز میں مسلط کرنے کی کوششوں کے لیے ایک نیا مرحلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان اقدامات میں مسجد کے اندر یہودی عبادات اور مذہبی رسومات مسلط کرنا، سجدوں اور اجتماعی عبادات کو وسعت دینا، مذہبی علامات اور اشیا لانا، اور یہودی آبادکاروں کے لیے نئے اوقات اور مقامات، بشمول ہفتہ کے دن، کھولنا شامل ہے۔
گورنریٹِ قدس نے ان سیاسی بیانات کے خطرے سے بھی خبردار کیا جو مسجد اقصیٰ میں یہودی مذہبی رسومات مسلط کرنے کے عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کی بات کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا جو مسجد اقصیٰ میں ان کے 19ویں داخلے کے دوران سامنے آیا تھا۔ بن گویر نے یہودی مذہبی رسومات کو ’’قدم بہ قدم‘‘ آگے بڑھانے اور بالآخر ’’مفروضہ ہیکل‘‘ کے قیام تک پہنچنے کی بات کی تھی۔
گورنریٹ نے کہا کہ یہ بیانات اس منصوبہ بندی کی اصل نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں جس میں ایک ناقابل قبول اقدام سے آغاز کرکے بتدریج ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن کا مقصد آخرکار اسے ایک مستقل حقیقت بنا دینا ہوتا ہے۔
گورنریٹِ قدس نے زور دیا کہ آنے والے ہفتوں میں انتہائی درجے کی ہوشیاری کی ضرورت ہے، کیونکہ یہودی تہواروں کے کئی اہم مراحل سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں 12 اور 13 ستمبر کو یہودی نیا سال، 21 ستمبر کو یومِ کفارہ، 26 ستمبر سے 2 اکتوبر تک عیدِ سایبان اور 3 اکتوبر کو تورات کے اختتام کا تہوار شامل ہے۔
گورنریٹ نے مسجد اقصیٰ اور قدس کو اسرائیل میں جاری سیاسی اور انتخابی مقابلے کے لیے استعمال کرنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا، خصوصاً انتخابات کے قریب آنے کے تناظر میں۔ اس نے اسے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کے خلاف جرم اور مسجد اقصیٰ کی شناخت اور تاریخی و قانونی حیثیت پر دانستہ حملہ قرار دیا۔
گورنریٹِ قدس کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں ستمبر کے پہلے ہفتے میں مسجد سے بے دخلی کے 15 احکامات جاری کیے گئے، جبکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک ایسے احکامات کی مجموعی تعداد 800 ہو چکی ہے۔ ان میں زیادہ تر احکامات مسجد اقصیٰ سے متعلق ہیں جبکہ بعض قدس کے دیگر علاقوں سے متعلق ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اگست کے اختتام تک 40 ہزار 661 یہودی آبادکار مسجد اقصیٰ میں داخل ہو چکے ہیں۔
گورنریٹِ قدس نے قدس اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ کا رخ کرنے اور اپنی موجودگی اور نماز کے ذریعے اس کی حفاظت کرنے کی اپیل کی۔
گورنریٹ نے زور دیا کہ مسجد اقصیٰ اپنی پوری 144 دونم اراضی سمیت ایک مکمل اسلامی مسجد ہے اور اس کی شناخت تبدیل کرنے کے لیے اسرائیل کی تمام کارروائیاں باطل ہیں اور ان سے کوئی قانونی حق پیدا نہیں ہوتا۔ گورنریٹ نے قدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی شناخت تبدیل کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل کو قدس پر کوئی حاکمیت حاصل نہیں اور شہر کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر تاریخی ہاشمی سرپرستی کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
آپ کا تبصرہ